نئی دہلی17جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)خواتین ریزرویشن بل کا مطالبہ اٹھانے والے کانگریس صدر راہل گاندھی کے سامنے مودی حکومت نے ایک نئی ڈیل کی پیشکش کی ہے ۔اس ڈیل میں مودی حکومت نے راہل گاندھی سے خواتین ریزرویشن بل کے ساتھ طلاق ثلاثہ جیسے مسائل پر پارلیمنٹ میں حمایت کا اعلان کیا ہے۔مسلمانوں کی پارٹی اور تین طلاق جیسے مسائل پر مسلم خواتین کے لئے آواز نہ اٹھانے کا الزام لگاتے ہوئے بی جے پی مسلسل کانگریس پارٹی کو گھیرے ہوئے ہے۔
اس دوران 16 جولائی کو راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر 18 جولائی سے شروع ہو رہے مانسون سیشن میں خواتین ریزرویشن بل پاس کرنے کی کوشش کی، جس کے تحت پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لئے 33 فیصد ریزرویشن کا بندوبست ہے ۔ راہل کی اس مانگ کے بعد بی جے پی نے ایک بار پھر گیند کانگریس کے پالے میں ڈال دی ہے۔
منگل کو مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے راہل گاندھی کے خط کا جواب دیا۔ انہوں نے راہل کو لکھے گئے خط میں ایک ’’نیوڈیل‘‘ کی پیش کش بھی کی ہے ۔ روی شنکر نے لکھا کہ میں چاہتا ہوں کہ بی جے پی اور کانگریس خواتین کی مساوات اور ان کی شراکت کے امور پر اتفاق رائے کرلے ۔اس نئے ڈیل کے تحت ہمیں خواتین ریزرویشن بل کے ساتھ طلاق ثلاثہ اور’’ نکاح حلالہ ‘‘جیسے مسائل پر بھی ’قانون‘ کی حمایت کرنی چاہیے۔ اپنے خط میں وزیر قانون نے یہ بھی کہا کہ تین طلاق اور نکاح حلالہ جیسے مسئلے نہ صرف مسلم خواتین کے حقوق سے متعلق ہیں، بلکہ ان کے ’احترام‘ کا بھی سوال ہے۔ راہل گاندھی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی ہونے کے ناطے خواتین اور ان کے حقوق کے سلسلے میں دہرا رویہ نہیں ہونا چاہئے۔
روی شنکر پرساد نے یہ بھی لکھا کہ خواتین ریزرویشن بل کو لے کر آپ کی پہل کی ہم تعریف کرتے ہیں۔ حکومت یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ کیا آپ اور آپ کے ساتھی جماعتیں بھی بل کی حمایت کریں گے اور ایوان کی کارروائی میں خلل نہیں ڈالیں گے۔ واضح ہو کہ راہل گاندھی نے 16 جولائی کو وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل لائیں، کانگریس ان مکمل حمایت کرے گی۔ یہ بل سال 2010 میں راجیہ سبھا میں پاس کیا گیا تھا، مگر لوک سبھا میں یہ بل منظور نہیں ہو سکا تھا۔ بل کے تحت پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کی تجویز ہے ۔